Friday, October 3, 2014

Home

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم٭                                          
ا للہم صل علیٰ محمد و آل محمدﷺ

                                                                                          
حضرت مسلم ابن عقیلؑ
از قلم: شبیہ زہرا جعفری
                                                             
حضرت مسلم ابن عقیل حضرت عقیلؑ بن ابوطالبؑ کے بیٹے اور امام حسینؑ کے چچا زاد بھائی ہیں۔آپ کی زوجہ رقیہ بنت علیؑ ہیں۔اندان بنی ہاشم میں آپ نہایت بہادر، اہل علم اور سیاسی و مذہبی بصیرت کے حامل ولایت اہل بیتؑ کے قائل تھے۔
آپ کو امام حسینؑ نے کوفہ کی جانب روانہ کیا تو آپ پندرہ رمضان المبارک سن ۰۶ ہجری میں کوفہ کی جانب روانہ ہوئے آپ کے ہمراآپ کے دو بیٹے اور بنی قیس کے دو رہنماوں کے ساتھ سفر کا آغاز کیا۔تاکہ جلدی اپنے مقصد تک پہنچ جائیں۔
حضرت مسلم ابن عقیلؑ کوفہ کے حضرت علیؑ کے بعد مظلوم ترین شہید ہیں۔آپ کا مقام اہلیبیتؑ اطہار کے نزدیک بہت بلند ہے۔آپ اس قدر صاحب عزو شرف ہیں کہ امام وقت امام حسین ؑ آپ کو اپنا سفیر بنا کر کوفہ کی جانب روانہ کر رہے ہیں۔آپ کا علم و فضل اور شجاعت میں نمایاں مقام ہے۔آپ کی امانت داری اور تقویٰ کی مثال نہیں ملتی۔آپ نے جس بے جگری سے تنہا کوفہ میں جنگ کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔دشمن نے آپ کو علیؑ کا شیر کہہ کر آپ کا تعارف کوفہ کے گورنر سے کروایا۔آپ نے ایک وقت میں پچاس ہزار افراد سے تنہا مقابلہ کیا تھا اگر محمد ابن اشعث آپ کو دھوکہ دیکر پوشیدہ گڑھے میں نہ گراتا تہ آپ کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکتی تھی اور اگر صرف آپ ہی کربلا پہنچ جاتے تو کربلا کی شکل بدل سکتی تھی۔
معتمد خاص و موثق:جب کوفہ کے لوگوں نے خاص کر وہاں کے شیعوں نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں سنا کہ انہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کیا ہے اور اس وقت مکہ معظمہ میں ہیں ان کے درمیاں ایک عظیم لہر دوڑی کہ امام حسین (ع) کی حمایت کریں اور اس طرح انہوں نے امام کو خطوط لکھ کر آنحضرت کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔ امام نے کوفیوں کی دعوت قبول کرتے ہوے اپنے سفیر حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ بنی امیوں کے خلاف کوفیوں کی بغاوت کی قیادت سنبھالے اور اسکے بعد یزیدی حکومت کا تختہ پلٹ دے۔
 آنحضرت نے وضو کیا اور مسجد الحرام میں رکن و مقام کے درمیان دو رکعت نماز ادا کرکے اللہ کے ساتھ راز و نیاز کرنے کے بعد اپنے چچازاد مسلم بن عقیل کو بلایااور انہیں  کوفہ کے حالات کے بارے میں آگاہ کیا اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اپنا نمایندہ بنا کر وہاں روانہ کروں تاکہ وہاں کے لوگوں کی بغاوت کی رھبری کر سکو۔
مسلم بن عقیل (ع) نے کمال افتخار کے ساتھ یہ خطرناک ذ مہ داری نبھانے کے لے  اپنی رضامندی  کا ا ظہار  کردیا-ا س 
  وقت امام حسین علیہ السلام نے کوفیوں کے نام خط لکھا اور مسلم بن عقیل (ع) کودیا تاکہ اسے وہاں لوگوں کے لے  پڑھیں ۔ خط کی عبارت یوں تھی:

خدا کے نام سے جو بخشنے والا مھربان ہے ،
حسین بن علی (ع) کی طرف سے مومنین اور مسلمین کے نام۔
اما بعد ، ھانی اور سعید تمہارے آخری ایلچیوں نے آپ لوگوں کے خطوط مجھ تک پہنچایااور میں خطوط کے متن سے آگاہ ہوا ہوں۔ تم لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم بے امام ہیں ہمارے پاس آجائیے شاید خدا آپکے ذریعے ہماری ھدایت فرمائے گا۔

میں نے اپنے بھائی اور چچازاد کہ جسے میں اپنے خاندان میں اپنا معتمد اور موثق جانتا ہوں یعنی مسلم بن عقیلؑ کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں اگر وہ مجھے لکھے کہ وہاں کے اکثر لوگوں خاص کر وہ شایستہ اور بڑی شخصتیں جنہوں نے مجھے خطوط لکھے ہیں کی رائے بھی یہی ہے انشااللہ میں آپ کے پاس آوں گا۔ 
میں اپنی قسم کھاتا ہوں امام حق وہی ہے جو کتاب خدا کے مطابق حکومت قائم کرے اور عوام کے ساتھ عدل و انصاف کرے اور حق کو قبول کرتا ہو اور اپنے آپ کو احکامات دین کاپائبند جانتا ہو۔ والسلام۔
کوفہ کا قیام
آپ کوفہ پہنچے تو آپ کا والہانہ استقبال ہوا اور لوگوں نے آپ کے ہاتھ پہ بیعت کر لی ان بیعت کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئی۔سب ہی بڑھ چڑھ کر آپ کا ساتھ دینے کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے۔اور آپ میں امام حسینؑ کی جھلک دیکھ رہے تھے۔
اور مسلم ابن عقیلؑ بھی خوش تھے کہ خدا کی جانب سے وہ سفیر امام حسینؑ کے عہدے پہ فائز ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دل میں خوف زدہ بھی تھے کیوں کہ وہ کوفے کے لوگوں کی رگ رگ سے واقف تھے۔ لیکن جس طرح کے حالات کا وہ مقابلہ کر رہے تھے مسلم ابن عقیلؑ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید اس بار یزید ملعون کے کردار کو دیکھتے ہوئے شاید یہ لوگ امام وقؑت کی مدد کے لئے تیار ہو جائیں۔

سیاسی بصیرت کا عملی مظاہرہ: مسلم ابن عقیل نے اپنی سیاسی بصیرت کا عملی مظاہرہ کوفے میں کیا۔ اور ایک ایسا نظام اور سسٹم بنایا جس کے تحت لوگ آ آ کر بیعت بھی کر رہے تھے اور مسلم ابن عقیل ؑ، ہانی بن عروہ، مسلم ابن عوسجہ وغیرہ سے ملاقات بھی کر رہے تھے اور خمس وغیرہ بھی جمع کر رہے تھے۔ باوجود کوشش کے عبید اللہ ابن زیاد اوراس کے حواری آپ کا پتہ نہ لگا سکے۔اور بھرپور کوشش کے باوجود آپ کا ٹھکا نہ کہان ہے نہ جان سکے۔
سخت ضحالات میں بھی سنت نبویﷺ کی پیروی:کوفہ کے بد ترین حالات میں بھی آپ نے اسلام اور اس کے مقدسات کا بھرپور خیال رکھا کسی ایک لمحے کے لئے بھی سنت نبویﷺ اور اسلام کے کسی ایک حکم کو بھی پائمال نہیں ہونے دیا۔
دشمن پہ پیچھے سے حملہ نہیں کیا:
جب آپ ہانی ابن عروہ کے گھر میں تھے اس وقت عبید اللہ ابن زیاد ہانیؒ کی عادت کے لئے آیا تھا اور اس وقت یہ سنہری موقع تھا اس سے جان چھرائی جا سکتی تھی کیونکہ کمرہ کے اندر ابن زیاد اکیلا تھا اور مسلم ابن عقیل کے ہاتھ میں تلوار بھی تھی اور ابن زیاد کے پیچھے کی جانب آپ کھڑے ہوئے تھے۔ چاہتے تو حملہ کر سکتے تھے لیکن سنتِ نبویﷺ پیچھے سے دشمن کو مارنے اور اور پھر اس کو بغیر وارننگ کے مارنے مذمت رسولِ خداﷺ و ائمہ اطہار نے کی ہے تو مسلم کیسے یہ کام کر لیتے؟
دوسری بات یہ تھجی کہ ابن زیاد اس وقت مہمان بن کر آیا تھا۔ ،مہمان پہ حملہ کرنا اسے مارنا قتل کرنا سنت رسولﷺ کے خلاف تھا۔اس لئے آپ یہ کام نہیں کر سکتے تھے اور نہ آپ نے ایسا کیا۔
شجاعت:
آپ نے تن تنہا پچاس ہزار کے لشکر کا مقابلہ کیا اور بے جگری سے لڑ کر امام علی کی شجاعت کو زندہ کردیا۔دشمن تک کو یہ کہنا پڑا کہ یہ علیؑ کا شیر ہے کو ئی عام آدمی نہیں ہے۔
ابن زیاد کے دربار میں پہنچ کر آپ نے اسے سلام نہیں کیا اس نے کہا کہ مسلم تم نے مجھے امیر المومنین کہہ کر سلام کیوں نہین کیاتو آ پ نے کہا کہ میرا امیر حسین ؑ ہے۔اور جو سر خدا کے آگے جھک جائے وہ کسی کے آگے نہیں جھکتا۔
حفاظتِ ناموس:
طوعہ کے گھر میں جب آپ تھے اور ہر طرف سے سپاہیوں نے گھر کو گھر لیا تو مسلم ابن عقیل باہر نکلنے لگے تو طوعہ نے کہا کہ آپ میرے گھر میں رہتے ہوئے جہاد کر لیجئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ تمہارے گھر میں نامحرم بغیر اجازت کے داخل ہوں، اور تمہارے گھر کی حرمے پائمال ہو۔
شریعت کی پابندی:کوفے کے دارالامارہ میں جب پیاس کا غلبہ ہواتو و آ پ نے پانی مانگا،پانی پیش کیا گیاتو آپ کے زخمی دانتوں سے خون نکل کرپانی میں جاگرا آپ نے اسے پھینک دیا۔ پھر پانی دیاگیا پھر خون اس میں جا گراآپ نے پھر اسے پھینک دیا، تیسری بار بھی جب ایسا ہی ہوا تو آپ نے فرمایا کہ شاید پانی پینا میرے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔آپ نے پیاسا رہنا پسند کیا لیکن نجس پانی نہیں پیا۔
دلیری:جب آپ کوفہ میں طوعہ کے گھر سے باہر لڑ رہے تھے اور ان کی کثیر تعدادمیں فوجیوں کو ہلاک کر چکے تھے اور مزید دستے آرہے تھے اس وقت محمد بن اشعث ملعون نے آپ کو فریب دینے کے لئے کہا کہ اے مسلم تم ہماری امان میں ہو! مسلم نے فوراً پلٹ کر کہا کہ فاسق و فاجر کی امان کوئی امان نہیں ہوتی!اسی طرح جب آپ کو دھوکہ سے گڑھے میں گرا کر گرفتار کیا گیا اور آپ کو دربار ابن زیاد میں لایا گیا تو ایک سپاہی نے کہا کہ امیر کو سلام کرو تو آپ نے کہا کہ لعنت ہو تم یہ میرا امیر نہی ہے میرا امیرتو حسینؑ ہے۔تو ابن زیاد کہنے لگا کہ تم سلام کرو یا نہ کرو تمہیں قتل تو ہونا ہی ہے! حضرت مسلم نے فوراً کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرےگا تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہےب کیونکہ تم سے زیادہ ناپاک افراد نے مجھ سے زیادہ بہتر افراد کو قتل کیا ہے۔اور اس سے بھی پست بات یہ ہے کہ تم لوگوں کو بے غیرتی سے قتل کرتے ہواس طرح تم اپنی بے غیرتی ظاہر کرتے ہو حقیقت تو یہ ہے کہ مکر و فریب میں تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے۔اسی طرح ابن زیاد اور و ¿پ کے درمیان مکالمہ ہوا ابن زیاد ہر بار ان کے سامنے عاجز ہوگیا بالآخر اپنے کمینے پن پہ اتر آیا اورامام علیؑ ، امام حسنؑ و حسین ؑ کے لئے اول فول بکنے لگا، حضرت مسلم ابن عقیل نے کہا کہ تو اور تیرا باپ ان گالیوں کے زیادہ حقدار ہیں،اے دشمن خدا تو جو کچھ بھی کرنا چاہے کرلے۔
شہادت: حجرت مسلم ابن عقیل کو دارالامارہ کی چھت پہ لے جایا گیا۔ سارا راستہ آپ خدا کی تسبیح پڑھتے رہے،خدا کی مغفرت طلب کرتے رہے اور حجرت محمدﷺ اور آل محمدﷺ پر درود پڑھتے رہے۔چھت پہ پہنچے تو ظالم نے ان کا سر تن سے جدا کر دیااور جسد اطہر کو چھت سے نیچے پھینک دیا گیا۔
پیاسا،تنہا اور مظلوم قاصد حسینؑ: آپ پیاسے ،اکیلے اور مظلوم شہید ہوئے اور کوئی آپ کے جسم کا دفن کرنے والا نہیں تھا۔آپ کا جسم مبارک کوفے کی گلیوں میں بچوں کے ہاتھوں کھنچتا رہا۔اور بعد میں کوفے کے دروازے پہ ٹانگ دیا گیا۔
از قلم: شبیہ زہرا جعفری