Thursday, August 21, 2014

میر ا دوپٹہ Tarekhi Kahanian


میر ا دوپٹہ

شبیہ زہرا جعفری

میں نے ایک دوپٹہ چار ہزار کا خریدا تھا۔ اس پہ کام بہت نفاست سے کیا گیا تھا

 ستارے، کلابتو،لیسز،جڑاؤ نگ اور نہ جانے کیا کیا
لینے کا مقصد یہ تھا کہ سادے کپڑوں کے ساتھ پہن کر سادہ کپڑے سادہ نہیں لگیں گے!




اور کسی بھی تقریب میں چل جائے گا!
اور کئی مہینے نئے کپڑوں اور مہنگے کپڑوں سے جان چھوٹ جائے گی!
اور پھر جب وہ دوپٹہ پہن کر میں پہلی بار خالہ کے گھر کزن کی منگنی میں گئی تو کزن کی منگنی کا سوٹ پھیکا لگنے لگا! باقی کزنز کا بھی منہ لٹک گیا!
بس میں ہی میں دکھ رہی تھی!
اور میرا دوپٹہ!
اور پھر
میری ایک کزن نے کہا کہ یہ دوپٹہ پہننے کو دو گی!
میں نے کہا کیوں نہیں!
اور یوں میرا دوپٹہ مجھ سمیت میرے  گھر ،خاندان اور محلے اور کالج فرینڈز کے بھی کام آنے لگا سب ہی نئے کپڑوں اور نئے سوٹس سے بچ گئے فضول خرچی لگنے لگی نئے کپڑوں کی تیاری!
ایک دن میری امی کا ہاتھ سیڑھی سے گرنے سے ٹوٹ گیا ہسپتال جانے پہ ڈاکٹرز نے پلاستر کرنے کو کہا
گھر میں پیسے نہیں تھے کہ پلاستر کیا جاتا
نہ کوئی قیمتی چیز تھی!
بہت سوچ بچار کے بعد میں اپنا دودپٹہ اپنی کزن کے پاس لے گئی
اس نے پورے پانچ ہزار دے کے دوپٹہ لے لیا!
میری امی کا پلاستر ہوگیا!
پھر چھ مہینے بعد ہاتھ بھی ٹھیک ہوگیا!
اور میں جاب پہ لگ گئی اور چھوٹی بہن اسکول ٹیچنگ کرنے لگی!
ایک دن اس کے اسکو؛ل میں پارٹی تھی اس نے مجھ سے وہی دوپٹہ مانگا تو میں ٹال گئی۔
یری بہن کی منگنی ہونے والی تھی اس نے کہا باجی دوپٹہ دے دو میں منگنی میں 


وہی پہنوں گی!
میں نے کہا ڈھونڈتی ہوں بہت ڈھونڈا پر وہ نہیں ملا!
میں ا س کے سامنے شرمندہ ہوگئی!
پر کیا کرتی وہ کہاں سے لاتی!
پھر میری بارات  تھی!
میری بہن نے مجھ سے  وہی دوپٹہ مانگا میں نے کہا کہ کہیں رکھ کے بھول گئی وہ پہلے تو مجھے دیکھتی رہی پھر کہنے لگی باجی آپ نہیں دینا چاہتیں تو نہ دیں مگر بھولنے کا  ناٹک نہ کریں کیون کہ میں جانتی ہوں آپ کچھ بھولتی نہیں ہیں!آپ جہیز میں لے جانا چاہتی ہیں نا! نیں چاہتیں کہ میں پہنوں! مت دیں میں نیا سوٹ خرید لوں گی یا اپنی منگنی کا سوٹ پہن لوں گی!
اور بارات آنے ہی والی تھی کہ میری کزن آگئی اس کے جسم پہ وہی دوپٹہ سجا ہوا تھا
میں گھبرا گئی اسے دیکھ کر!
مگر وہ میرے پاس نہ آئی تھوڑی دیر کے بعد بارات آگئی اور گہما گہمی میں مجھے میری وہ کزن دکھائی نہ دی
نکاح کے وقت میرے قریب میری وہیی کزن آگئی اور میں مزید گھبرا گئی
میری بہن دکھائی نہیں دے رہی تھی!
رخصتی کے وقت وہ میرے پاس آگئی اور مجھ سے لپٹ کر بولی!
باجی! آپ نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ آپ نے دوپٹہ فرح باجی کو بیچ کر امی کا پلاستر کروایا تھا!
میری آنکھیں بھیگ گئیں
اور وہ مجھ سے لپٹ گئی
باجی آپ بہت عظیم ہیں!
میں آپ کو غلط سمجھتی رہی میں سمجھتی تھی کہ آپ نے ابو کا پیسہ چھپا رکھا تھا مجھے فرح باجی نے بتایا کہ آپ چھپ چھپ کے کہانیاں لکھتی تھیں اور ان پیسوں سے گھر چلتا تھا
اور پھر امی کا پلاستر آپ نے  اپنا دوپٹہ بیچ کر کیا
مجھے معاف کر دیں
میری بہن رو رہی تھی
اور میں بھی 
میں اس لئے کہ فرح نے میرا راز کھول دیا تھا
اور وہ اس لئے رو رہی تھی کہ آج اس کا دل صاف ہو گیا تھا۔
میرا دوپٹہ واقعی گریٹ تھا۔
شبیہ زہرا جعفریبرائے مہربانی کمنٹس دیجئے

No comments:

Post a Comment