Friday, October 3, 2014

Home

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم٭                                          
ا للہم صل علیٰ محمد و آل محمدﷺ

                                                                                          
حضرت مسلم ابن عقیلؑ
از قلم: شبیہ زہرا جعفری
                                                             
حضرت مسلم ابن عقیل حضرت عقیلؑ بن ابوطالبؑ کے بیٹے اور امام حسینؑ کے چچا زاد بھائی ہیں۔آپ کی زوجہ رقیہ بنت علیؑ ہیں۔اندان بنی ہاشم میں آپ نہایت بہادر، اہل علم اور سیاسی و مذہبی بصیرت کے حامل ولایت اہل بیتؑ کے قائل تھے۔
آپ کو امام حسینؑ نے کوفہ کی جانب روانہ کیا تو آپ پندرہ رمضان المبارک سن ۰۶ ہجری میں کوفہ کی جانب روانہ ہوئے آپ کے ہمراآپ کے دو بیٹے اور بنی قیس کے دو رہنماوں کے ساتھ سفر کا آغاز کیا۔تاکہ جلدی اپنے مقصد تک پہنچ جائیں۔
حضرت مسلم ابن عقیلؑ کوفہ کے حضرت علیؑ کے بعد مظلوم ترین شہید ہیں۔آپ کا مقام اہلیبیتؑ اطہار کے نزدیک بہت بلند ہے۔آپ اس قدر صاحب عزو شرف ہیں کہ امام وقت امام حسین ؑ آپ کو اپنا سفیر بنا کر کوفہ کی جانب روانہ کر رہے ہیں۔آپ کا علم و فضل اور شجاعت میں نمایاں مقام ہے۔آپ کی امانت داری اور تقویٰ کی مثال نہیں ملتی۔آپ نے جس بے جگری سے تنہا کوفہ میں جنگ کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔دشمن نے آپ کو علیؑ کا شیر کہہ کر آپ کا تعارف کوفہ کے گورنر سے کروایا۔آپ نے ایک وقت میں پچاس ہزار افراد سے تنہا مقابلہ کیا تھا اگر محمد ابن اشعث آپ کو دھوکہ دیکر پوشیدہ گڑھے میں نہ گراتا تہ آپ کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکتی تھی اور اگر صرف آپ ہی کربلا پہنچ جاتے تو کربلا کی شکل بدل سکتی تھی۔
معتمد خاص و موثق:جب کوفہ کے لوگوں نے خاص کر وہاں کے شیعوں نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں سنا کہ انہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کیا ہے اور اس وقت مکہ معظمہ میں ہیں ان کے درمیاں ایک عظیم لہر دوڑی کہ امام حسین (ع) کی حمایت کریں اور اس طرح انہوں نے امام کو خطوط لکھ کر آنحضرت کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔ امام نے کوفیوں کی دعوت قبول کرتے ہوے اپنے سفیر حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ بنی امیوں کے خلاف کوفیوں کی بغاوت کی قیادت سنبھالے اور اسکے بعد یزیدی حکومت کا تختہ پلٹ دے۔
 آنحضرت نے وضو کیا اور مسجد الحرام میں رکن و مقام کے درمیان دو رکعت نماز ادا کرکے اللہ کے ساتھ راز و نیاز کرنے کے بعد اپنے چچازاد مسلم بن عقیل کو بلایااور انہیں  کوفہ کے حالات کے بارے میں آگاہ کیا اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اپنا نمایندہ بنا کر وہاں روانہ کروں تاکہ وہاں کے لوگوں کی بغاوت کی رھبری کر سکو۔
مسلم بن عقیل (ع) نے کمال افتخار کے ساتھ یہ خطرناک ذ مہ داری نبھانے کے لے  اپنی رضامندی  کا ا ظہار  کردیا-ا س 
  وقت امام حسین علیہ السلام نے کوفیوں کے نام خط لکھا اور مسلم بن عقیل (ع) کودیا تاکہ اسے وہاں لوگوں کے لے  پڑھیں ۔ خط کی عبارت یوں تھی:

خدا کے نام سے جو بخشنے والا مھربان ہے ،
حسین بن علی (ع) کی طرف سے مومنین اور مسلمین کے نام۔
اما بعد ، ھانی اور سعید تمہارے آخری ایلچیوں نے آپ لوگوں کے خطوط مجھ تک پہنچایااور میں خطوط کے متن سے آگاہ ہوا ہوں۔ تم لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم بے امام ہیں ہمارے پاس آجائیے شاید خدا آپکے ذریعے ہماری ھدایت فرمائے گا۔

میں نے اپنے بھائی اور چچازاد کہ جسے میں اپنے خاندان میں اپنا معتمد اور موثق جانتا ہوں یعنی مسلم بن عقیلؑ کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں اگر وہ مجھے لکھے کہ وہاں کے اکثر لوگوں خاص کر وہ شایستہ اور بڑی شخصتیں جنہوں نے مجھے خطوط لکھے ہیں کی رائے بھی یہی ہے انشااللہ میں آپ کے پاس آوں گا۔ 
میں اپنی قسم کھاتا ہوں امام حق وہی ہے جو کتاب خدا کے مطابق حکومت قائم کرے اور عوام کے ساتھ عدل و انصاف کرے اور حق کو قبول کرتا ہو اور اپنے آپ کو احکامات دین کاپائبند جانتا ہو۔ والسلام۔
کوفہ کا قیام
آپ کوفہ پہنچے تو آپ کا والہانہ استقبال ہوا اور لوگوں نے آپ کے ہاتھ پہ بیعت کر لی ان بیعت کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئی۔سب ہی بڑھ چڑھ کر آپ کا ساتھ دینے کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے۔اور آپ میں امام حسینؑ کی جھلک دیکھ رہے تھے۔
اور مسلم ابن عقیلؑ بھی خوش تھے کہ خدا کی جانب سے وہ سفیر امام حسینؑ کے عہدے پہ فائز ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دل میں خوف زدہ بھی تھے کیوں کہ وہ کوفے کے لوگوں کی رگ رگ سے واقف تھے۔ لیکن جس طرح کے حالات کا وہ مقابلہ کر رہے تھے مسلم ابن عقیلؑ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید اس بار یزید ملعون کے کردار کو دیکھتے ہوئے شاید یہ لوگ امام وقؑت کی مدد کے لئے تیار ہو جائیں۔

سیاسی بصیرت کا عملی مظاہرہ: مسلم ابن عقیل نے اپنی سیاسی بصیرت کا عملی مظاہرہ کوفے میں کیا۔ اور ایک ایسا نظام اور سسٹم بنایا جس کے تحت لوگ آ آ کر بیعت بھی کر رہے تھے اور مسلم ابن عقیل ؑ، ہانی بن عروہ، مسلم ابن عوسجہ وغیرہ سے ملاقات بھی کر رہے تھے اور خمس وغیرہ بھی جمع کر رہے تھے۔ باوجود کوشش کے عبید اللہ ابن زیاد اوراس کے حواری آپ کا پتہ نہ لگا سکے۔اور بھرپور کوشش کے باوجود آپ کا ٹھکا نہ کہان ہے نہ جان سکے۔
سخت ضحالات میں بھی سنت نبویﷺ کی پیروی:کوفہ کے بد ترین حالات میں بھی آپ نے اسلام اور اس کے مقدسات کا بھرپور خیال رکھا کسی ایک لمحے کے لئے بھی سنت نبویﷺ اور اسلام کے کسی ایک حکم کو بھی پائمال نہیں ہونے دیا۔
دشمن پہ پیچھے سے حملہ نہیں کیا:
جب آپ ہانی ابن عروہ کے گھر میں تھے اس وقت عبید اللہ ابن زیاد ہانیؒ کی عادت کے لئے آیا تھا اور اس وقت یہ سنہری موقع تھا اس سے جان چھرائی جا سکتی تھی کیونکہ کمرہ کے اندر ابن زیاد اکیلا تھا اور مسلم ابن عقیل کے ہاتھ میں تلوار بھی تھی اور ابن زیاد کے پیچھے کی جانب آپ کھڑے ہوئے تھے۔ چاہتے تو حملہ کر سکتے تھے لیکن سنتِ نبویﷺ پیچھے سے دشمن کو مارنے اور اور پھر اس کو بغیر وارننگ کے مارنے مذمت رسولِ خداﷺ و ائمہ اطہار نے کی ہے تو مسلم کیسے یہ کام کر لیتے؟
دوسری بات یہ تھجی کہ ابن زیاد اس وقت مہمان بن کر آیا تھا۔ ،مہمان پہ حملہ کرنا اسے مارنا قتل کرنا سنت رسولﷺ کے خلاف تھا۔اس لئے آپ یہ کام نہیں کر سکتے تھے اور نہ آپ نے ایسا کیا۔
شجاعت:
آپ نے تن تنہا پچاس ہزار کے لشکر کا مقابلہ کیا اور بے جگری سے لڑ کر امام علی کی شجاعت کو زندہ کردیا۔دشمن تک کو یہ کہنا پڑا کہ یہ علیؑ کا شیر ہے کو ئی عام آدمی نہیں ہے۔
ابن زیاد کے دربار میں پہنچ کر آپ نے اسے سلام نہیں کیا اس نے کہا کہ مسلم تم نے مجھے امیر المومنین کہہ کر سلام کیوں نہین کیاتو آ پ نے کہا کہ میرا امیر حسین ؑ ہے۔اور جو سر خدا کے آگے جھک جائے وہ کسی کے آگے نہیں جھکتا۔
حفاظتِ ناموس:
طوعہ کے گھر میں جب آپ تھے اور ہر طرف سے سپاہیوں نے گھر کو گھر لیا تو مسلم ابن عقیل باہر نکلنے لگے تو طوعہ نے کہا کہ آپ میرے گھر میں رہتے ہوئے جہاد کر لیجئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ تمہارے گھر میں نامحرم بغیر اجازت کے داخل ہوں، اور تمہارے گھر کی حرمے پائمال ہو۔
شریعت کی پابندی:کوفے کے دارالامارہ میں جب پیاس کا غلبہ ہواتو و آ پ نے پانی مانگا،پانی پیش کیا گیاتو آپ کے زخمی دانتوں سے خون نکل کرپانی میں جاگرا آپ نے اسے پھینک دیا۔ پھر پانی دیاگیا پھر خون اس میں جا گراآپ نے پھر اسے پھینک دیا، تیسری بار بھی جب ایسا ہی ہوا تو آپ نے فرمایا کہ شاید پانی پینا میرے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔آپ نے پیاسا رہنا پسند کیا لیکن نجس پانی نہیں پیا۔
دلیری:جب آپ کوفہ میں طوعہ کے گھر سے باہر لڑ رہے تھے اور ان کی کثیر تعدادمیں فوجیوں کو ہلاک کر چکے تھے اور مزید دستے آرہے تھے اس وقت محمد بن اشعث ملعون نے آپ کو فریب دینے کے لئے کہا کہ اے مسلم تم ہماری امان میں ہو! مسلم نے فوراً پلٹ کر کہا کہ فاسق و فاجر کی امان کوئی امان نہیں ہوتی!اسی طرح جب آپ کو دھوکہ سے گڑھے میں گرا کر گرفتار کیا گیا اور آپ کو دربار ابن زیاد میں لایا گیا تو ایک سپاہی نے کہا کہ امیر کو سلام کرو تو آپ نے کہا کہ لعنت ہو تم یہ میرا امیر نہی ہے میرا امیرتو حسینؑ ہے۔تو ابن زیاد کہنے لگا کہ تم سلام کرو یا نہ کرو تمہیں قتل تو ہونا ہی ہے! حضرت مسلم نے فوراً کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرےگا تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہےب کیونکہ تم سے زیادہ ناپاک افراد نے مجھ سے زیادہ بہتر افراد کو قتل کیا ہے۔اور اس سے بھی پست بات یہ ہے کہ تم لوگوں کو بے غیرتی سے قتل کرتے ہواس طرح تم اپنی بے غیرتی ظاہر کرتے ہو حقیقت تو یہ ہے کہ مکر و فریب میں تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے۔اسی طرح ابن زیاد اور و ¿پ کے درمیان مکالمہ ہوا ابن زیاد ہر بار ان کے سامنے عاجز ہوگیا بالآخر اپنے کمینے پن پہ اتر آیا اورامام علیؑ ، امام حسنؑ و حسین ؑ کے لئے اول فول بکنے لگا، حضرت مسلم ابن عقیل نے کہا کہ تو اور تیرا باپ ان گالیوں کے زیادہ حقدار ہیں،اے دشمن خدا تو جو کچھ بھی کرنا چاہے کرلے۔
شہادت: حجرت مسلم ابن عقیل کو دارالامارہ کی چھت پہ لے جایا گیا۔ سارا راستہ آپ خدا کی تسبیح پڑھتے رہے،خدا کی مغفرت طلب کرتے رہے اور حجرت محمدﷺ اور آل محمدﷺ پر درود پڑھتے رہے۔چھت پہ پہنچے تو ظالم نے ان کا سر تن سے جدا کر دیااور جسد اطہر کو چھت سے نیچے پھینک دیا گیا۔
پیاسا،تنہا اور مظلوم قاصد حسینؑ: آپ پیاسے ،اکیلے اور مظلوم شہید ہوئے اور کوئی آپ کے جسم کا دفن کرنے والا نہیں تھا۔آپ کا جسم مبارک کوفے کی گلیوں میں بچوں کے ہاتھوں کھنچتا رہا۔اور بعد میں کوفے کے دروازے پہ ٹانگ دیا گیا۔
از قلم: شبیہ زہرا جعفری


Thursday, October 2, 2014

Home



!کراچی  کے  لوگوں کی لیے خوشخبری

  
  کی جانب سی عیدالاضحی  پر لوڈ شیڈنگ  K Electric)

!نہ کرنے کا اعلان
 
 کے الیکٹرک(K. Electric) کے مطابق عوام کی  سہولت کو مدد نظر رکھتے ہوئے عیدالاضحی  پر 5 سے 8 اکتوبر تک لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی- جبکہ اگرکہیں تکنیکی خرابی کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہواتو اسے بھی دور کرنے کرنے کے لئے کے الیکٹرک کی مختلف ٹیمیں 24 گھنٹے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے موجود ہوں گی۔اور اس بھا نے سی کراچی والوں کو ایک بار پھر عا رضی طور پر لوڈ شیڈنگ  سے  نجات مل جاے گی.کے  الیکٹرک  کی جانب سی اس خبر پر یوم نی خوشی کا اطھا ر ہر کیا ہے   .

Home

!ہوشیار 
بکرا منڈی  جانے  والے  ہوشیار  رہیں 
-جانوروں  میں  موجود  بیماریاں  بہت  خطرناک  بهی  ہوسکتی ہیں  اس  لتے  منڈی  جاتے  ہوتے  احتیاط سی کام لیں جو بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں ان میں سب سی بھیانک  بیماری کانگو وارس ہی اس میں:شدید بخار، اور جسم میں درد پھر ٹانگوں کا سْن ہوجانا اور دیکھتے ہی دیکھتے موت واقع ہو جانا- جو جانوروں  سے کسی بھی شخص کو ہوسکتی  ہے -ماہرین کے مطابق کانگو وائرس ٹکس نامی کیڑے کے کاٹنے سے جانوروں میں جنم لیتی  ہے اور متاثرہ جانور کا خون کسی زخم  پر لگنے یا اس کا گوشت کچا  پکا کھانے سے انسانوں میں منتقل ہوجاتی  ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عید الضحٰی پر مویشیوں کی بروقت ویکسی نیشن سے اس موذی مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ 
جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے کانگو وائرس کا واحد علاج احتیاط ہے۔ 
ماہرین کا مشورہ ہے کہ قربانی کیلیے جانور گھر لانے سے پہلے اس بات کی تصدیق کرلیں کہ کہیں جو جانور آپ خرید  رہے ہیں اس میں کانگو وائرس تو نہیں جو آپ کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے لیکن ہمارا دعا  ہے  کہ خدا ا آ پ کو ہر بیماری سی 
محفو ظ  رکھے  اور آ پ کی قربانی قبول فرمانے

Wednesday, October 1, 2014

Home

قربانی کی احکام  و ہدف :
 

قربانی کے ہدف اور فلسفہ کے واقع ہونے کے لئے خداوند عالم نے ذبح اور قربانی کے احکام بیان کئے ہیں ، ان میں سے کچھ احکام مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ ذبح یا نحرکرتے وقت خداوند عالم کے اسماء حسنی میں سے کوئی ایک نام لیا جائے ”لِیَشْہَدُوا مَنافِعَ لَہُمْ وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فی اٴَیَّامٍ مَعْلُوماتٍ عَلی ما رَزَقَہُمْ مِنْ بَہیمَةِ الْاٴَنْعامِ فَکُلُوا مِنْہا وَ اٴَطْعِمُوا الْبائِسَ الْفَقیرَ“ ۔تاکہ اپنے منافع کا مشاہدہ کریں اور چند معین دنوں میں ان چوپایوں پر جو خدا نے بطور رزق عطا کئے ہیں خدا کا نام لیں اور پھر تم اس میں سے کھاؤ اور بھوکے محتاج افراد کو کھلاؤ ۔

۲۔ قربانی کرتے وقت ہر طرح کے شرک سے اجتناب کیا جائے ”وَ اٴَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاٴْتُوکَ رِجالاً وَ عَلی کُلِّ ضامِرٍ یَاٴْتینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمیقٍ ، لِیَشْہَدُوا مَنافِعَ لَہُمْ وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فی اٴَیَّامٍ مَعْلُوماتٍ عَلی ما رَزَقَہُمْ مِنْ بَہیمَةِ الْاٴَنْعامِ فَکُلُوا مِنْہا وَ اٴَطْعِمُوا الْبائِسَ الْفَقیرَ ، ثُمَّ لْیَقْضُوا تَفَثَہُمْ وَ لْیُوفُوا نُذُورَہُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوا بِالْبَیْتِ الْعَتیقِ ، ذلِکَ وَ مَنْ یُعَظِّمْ حُرُماتِ اللَّہِ فَہُوَ خَیْرٌ لَہُ عِنْدَ رَبِّہِ وَ اٴُحِلَّتْ لَکُمُ الْاٴَنْعامُ إِلاَّ ما یُتْلی عَلَیْکُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاٴَوْثانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ، حُنَفاء َ لِلَّہِ غَیْرَ مُشْرِکینَ بِہِ وَ مَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَکَاٴَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماء ِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اٴَوْ تَہْوی بِہِ الرِّیحُ فی مَکانٍ سَحیقٍ “ ۔

۳۔ قربانی کرتے وقت خداوندعالم کی تعظیم کیلئے اللہ اکبر کہنا ” لِتُکَبِّرُوا اللَّہَ عَلی ما ہَداکُم“۔
خدا کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اعلان کرو اور نیک عمل والوں کو بشارت دے دو۔

۴۔ شرک کے طریقہ پر جو جانور ذبح کئے گئے ہیں ان کے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔

قرآن کریم کی نظر میں صرف وہ قربانی قابل قبول ہے جو صرف خداوند عالم کے لئے کی گئی ہواور اس شخص نے صرف خداوند عالم سے تقرب حاصل کرنے کیلئے قربانی کی ہو (سورہ مائدہ ، آیت ۲۷ ۔ سورہ حج ، آیت ۳۶ و ۳۷) ۔

قربانی تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے ،ایک حصہ حج کرنے والے کیلئے ، دوسرا حصہ مومنین کے لئے اور تیسرا حصہ فقراء کو دیا جاتا ہے (سورہ حج ، آیت ۳۶) ۔ 
بہتر ہے کہ یہ قربانی کھانے کی صورت میں لوگوں کو دی جائے اور قربانی کرنے والا بھی اس میں سے کھائے (سورہ حج ، آیت ۳۶) ۔

  • گائے، بھیڑ و بکری اور اونٹ کی قربانی کی جاسکتی ہے ۔ 
  • اس بناء پر گائے اور بھیڑ، بکری کو ذبح کیا جاتا ہے
  •  اور اونٹ کو نحر کیا جاتا ہے ،
 حج میں بھیڑ کی قربانی کو سب سے آسان اور سب سے کم شمار کیا گیا ہے” حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے تمام کرو اب اگر گرفتار ہوجاؤ توجو قربانی ممکن ہو وہ دے دو اور اس وقت تک سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنی منزل تک نہ پہنچ جائے. اب جو تم میں سے مریض ہے یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہے تو وہ روزہ یاصدقہ یا قربانی دے دے پھر جب اطمینان ہوجائے تو جس نے عمرہ سے حج تمتع کا ارادہ کیا ہے وہ ممکنہ قربانی دے دے اور قربانی نہ مل سکے تو تین روزے حج کے دوران اور سات واپس آنے کے بعد رکھے کہ اس طرح دس پورے ہوجائیں. یہ حج تمتع اور قربانی ان لوگوں کے لئے ہے جن کے اہلِ مسجدالحرام کے حاضر شمار نہیں ہوتے اور اللہ سے ڈرتے رہو اوریہ یاد رکھو کہ خدا کا عذاب بہت سخت ہے “ ۔ (سورہ بقرہ، آیت ۱۹۶ ۔ عیون اخبار الرضا، ج ۳، ص ۱۲۰، ھدی یعنی وہی بھیڑ بکری بیان ہوئی ہے) ۔

قربانی اسلام میں ہر عمل کیلئے مستحب ہے جیسے بچوں کا عقیقہ، گھر کی خریداری اور سفر پر جانے کیلئے زیاده تاکید کی گئی ہے اور حج کے زمانہ میں مستحب ہے کہ اگر انسان قرض لے کر بھی قربانی کرسکتا ہو تو قربانی کرے ۔ ائمہ معصومین (علیہم السلام) کے کلام میں ملتا ہے کہ اگر کسی کے پاس قربانی کرنے کیلئے پیسہ نہ ہو تو وہ قرض لے کر قربانی کرے اوراس سنت کو انجام دے ۔ 
امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا : اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ قربانی میں کتنے فوائد ہیں تو وہ قرض لے کر قربانی کرتے ۔ قربانی کا جو پہلا قطرہ زمین پر گرتا ہے اس پہلے قطرہ کی وجہ سے انسان کو بخش دیا جاتا ہے (وسائل الشیعہ، ج ۱۴ ، ص ۲۱۰ ) ۔
 ا عما ل روز عید :
کتاب المراقبات میں عید قربان کے روز قربانی کی فضیلت کے بارے میں ذکر ہوا ہے : اس دن کے بہترین اعمال میں سے ایک قربانی ہے جس کو انجام دینے میں بندگی کے قوانین اور ادب کی رعایت کرنا چاہئے ․․․ یاد رہے کہ اس دن قربانی نہ کرنا اورخدا کی راہ میں تھوڑا سے مال ایثار نہ کرنا خسارہ اورنقصان کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
قربانی کی برکتیں:
گذشتہ مطالب میں قربانی کے بعض آثار اور برکتیں بیان ہوئی ہیں لیکن یاد رہے کہ قربانی کی اور دوسری برکتیں بھی ہیں جس میں سے بعض برکتیں مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ خداوند عالم کی راحمت واسعہ : جس کو سورہ مائدہ کی ۹۶ ویں اور ۹۷ ویں آیت میں بیان کیا ہے”تمہارے لئے دریائی جانور کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے کہ تمہارے لئے اور قافلوں کے لئے فائدہ کا ذریعہ ہے اور تمہارے لئے خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے جب تک حالت احرام میں رہو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ، اللہ نے کعبہ کو جو بیت الحرام ہے اور محترم مہینے کو اور قربانی کے عام جانوروں کو اور جن جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈال دیا گیا ہے سب کو لوگوں کے قیام و صلاح کا ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ تمہیں یہ معلوم رہے کہ اللہ زمین و آسمان کی ہر شے سے باخبر ہے اور وہ کائنات کی ہر شے کا جاننے والا ہے“(سورہ مائدہ، آیت ۹۶ ۔ ۹۷) ۔
۲۔ نیک اور احسان کرنے والوں میں شامل ہونا : ”خدا کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اعلان کرو اور نیک عمل والوں کو بشارت دے دو “ ۔ (سورہ حج ، آیت ۳۷) ۔
۳۔ مغفرت الہی سے استفادہ کرنا : ” اٴُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعامُہُ مَتاعاً لَکُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ وَ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ ما دُمْتُمْ حُرُماً وَ اتَّقُوا اللَّہَ الَّذی إِلَیْہِ تُحْشَرُون“ ۔ (سورہ مائدہ ، آیت ۹۷) ۔
خداوند عالم نے قربانی کو معاشرہ کے اتحاداور اتفاق کے عنوان سے پیش کیا ہے تاکہ امتوں اور قوموں کے درمیان اتحاد و انسجام قائم ہوجائے اور معاشرہ کے افراد مختلف شکلوں میں ایک دوسرے سے متصل ہوجائیں ۔ خصوصا تمام افراد اس قربانی سے استفادہ کریں اور اس کا گوشت تناول فرمائیں اور اس کے ذریعہ امتوں اورقوموں میں مہر ومحبت زیادہ ہوجائ- آ مین

 

home

 بکرا منڈی میں رونق بڑھنے لگی ہے۔

بکروں کی قسمیں

از قلم : شبیہ  زہرا جعفری

 

عید الاضحی کا چاند نظر آتے ہی بکرا منڈی میں رونق بڑھنے لگتی ہے۔ صبح سے دوپہر تک منڈی میں سناٹا چھایا رہتا ہے۔ دوپہر تک ایک دو خریدار ہی منڈی پہنچتے ہیں۔ دن ڈھلنے کے ساتھ ہی منڈی میں رونق بڑھنی شروع ہوتی ہے تو دیر رات تک بنی رہتی۔پھلے تو بکرا منڈی  میں صرف مرد آ تے تھے اب تو خواتین نے بھی بکرا  منڈی کا رخ کرنا شرو ع  کردیا ہے  جس  کی  وجہ  سے اب تو منڈی اور زیادہ   رش بھی بڑھ گیا ہے  اور قیمتیں بھی آسمان سی باتیں کرنے لگی ہیں .
قربانی کے تہوارکی تیاری کیلئے بکرا منڈی جگہ جگہ سجنا شروع ہو گئی ہے۔ پہلے تو کہیں کہیں منڈی لگتی تھی مگر اب آپ کو جگہ جگہ جانور بکتے نظر آئیں گے۔ویسے تواس میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ار انتظامی لحاظ سے دیکھا جائے تو روڈ سائیڈ پہ منڈی لگنے سے ٹریفک بھی متاثر ہوتی ہے اور رش بھی لگ جاتا ہے اس طرح پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ اور مویشیوں کے فضلے کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔پھر رہائشی علاقوں میں بدبو کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اور مچھروں،مکھیوں کا مسئلہ بھی شدت اختیارلیتا ہے۔
یہ تمام باتیں تو ایک جانب عید الاضحی کی رونقیں اتنی جاندار ہوتی ہیں کہ ہر انسان چاہے سارا سال ان باتوں کو برداشت نہ کرے لیکن عید قربان کی وجہ سے ان باتوںکوہنسی خوشی برداشت کرلیتا ہے۔
 دوکانوں میں مختلف اقسام کے جانور کے چارے اور پھولوں اور ہاروں سے سجے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر طرف قربانی کے جانوروں کے گھنگھروو ¿ں کی چھم چھم جبکہ اکثر جگہوں پر ان کی خوبصورتی کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔
 یوں لگتا ہے کہ جیسے منڈی مویشیاں نہیں بلکہ جانوروں کا ”بازارِ حسن“ ہے گویا۔ پہلے صرف دیہاتوں سے لوگ اپنے جانوروں کو لاکر منڈی میں فروخت کرتے تھے مگر اب سرمایہ کاروں اور مارکیٹنگ کے لوگوں کی آمد سے اِن منڈیوں میں صحتمند مقابلوں کی فضاءقائم ہو گئی ہے۔ مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق اب جانور فروخت کرنے والے ساتھ خوبیاں بھی گنواتے ہیں۔
 ذرا آپ بھی ملاحظہ کریں کہ بکرا منڈی میں بیوپاری حضرات گاہکوں کو متاثر کرنے کیلئے بکروں کی خوبیاں کیسے بیان کرتے ہیں۔ فیشنی بکرا :یہلڑکیوں کے فیشن سے متاثر ہے۔ اس کو فیشن کرنے اور نت نئے انداز اپنانے کا چسکا ہے۔ ذرا اس کا سنگھار تو دیکھیں، ماشاء اللہ کتنا حسین لگ رہا ہے۔ دیکھیں جناب اگر مِس ورلڈ اسے دیکھ لے تو یقیناً شرما جائے۔ اگر بیگم صاحبہ کو اپنے حسن پر بہت ناز ہے تو پھر اس فیشل ایبل بکرے کو خرید کر اپنے گھر لے جائیں۔ اس طرح نہ صرف بیگم صاحبہ جیلس ہوں گی بلکہ فرماں برداری کا اعلیٰ نمونہ بھی بن جائیں گی۔
شرارتی بکرا: یہ بکرا کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کی شرارتیں ہی ہیں جو دل میں اتر جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس بکرے کی خوبیاں کیا بیان کریں جی !یہ خود ہی اپنی خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ اسے خرید کر تو دیکھیں، آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اس کی معصوم شکل پر نہ جانا، اندر سے یہ بہت شرارتی ہے۔ ویسے صاحب جی!برا نہ منانا، شکل تو آپ کی بھی اس بکرے سے ملتی جلتی ہے۔ اگر دونوں کو ایک ساتھ باندھ دیا جائے تو فرق کرنا مشکل ہو جائے گا کہ ان میں سے بکرا کونسا ہے۔
انگریز بکرا :یہ صرف شکل سے ہی گورا نہیں بلکہ اندر سے بھی گورا مطلب انگریز ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انگریزی بولتا ہے۔ اگر اس سے پوچھا جائے کہ اپریل کے بعد کونسا مہینہ آتا ہے تو فر فر انگریزی میں جواب دیتا ہے۔۔۔ MAY۔۔۔
 چائنا بکرا: پہلی بار انتہائی سستا بکرا بھی مارکیٹ میں آ چکا ہے اور جلد ہی ان کی بڑی کھیپ ہماری مارکیٹوں کا رخ کرنے والی ہے۔ اس کا ساتواں حصہ پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر بک کرائیں یا پھر مکمل بکرا پوری فیملی کیلئے صرف پانچ سو روپے میں خرید سکتے ہیں۔ مگر خیال رہے کہ یہ چائنا کا بکرا ہے۔ اگر آپ کے گھر جا کر بھونکنا شروع ہو گیا یا پھر چھینکنے سے اس کی بتیسی باہر نکل آ ئی تو میں ہرگز ذمہ دار نہیں، کیونکہ چائنا کے مال کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔
ریمبو بکرا ©:یہ مارشل آرٹ فلموں کے شہنشاہ ریمبوکی طرح پھرتیلا بکرا ہے، اسی وجہ سے اس کا نام بھی ”ریمبو“ پڑ گیا ہے۔ اس بکرے کی لڑائی کی مہارت کے تو بڑے بڑے پہلوان بکرے بھی مداح ہیں۔ یہ مخالف کو منٹوں میں چِت کر دیتا ہے۔
ڈھیٹ بکرا :یہ ہے نہایت ہی خوبصورت اور پیار کے قابل بکرا، جسے دیکھتے ہی اس پر پیار آ جاتا ہے مگر انتہائی درجے کا ڈھیٹ ہے۔اسے بلاو ¿ تو بھاگ جاتا ہے، بھگاو ¿ تو آجاتا ہے۔
 سیاسی بکرے یہ ایسے سیاسی بکرے ہیں جو ہر بار قوم کو قربانی کا بکرا بنا کر خود بچ نکلتے ہیں لیکن اس بار ہم انہیں بھی بکرا منڈی تک پہنچا نے میں کامیاب ہو گئے ہیں، کیونکہ پوری قوم کی یہ آواز ہے کہ اب کی بار ان سیاسی بکروں کو ہی قربانی کا بکرا بننا چاہئے اور پھر ان تنومند بکروں کا گوشت پوری قوم میں منصفانہ تقسیم ہونا چاہئیے۔
اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کونسا بکرا قربان کریں گے؟

از قلم : شبیہ  زہرا جعفری

Friday, August 22, 2014

Home






Home



بلا عنوان! Sachi Kahanian


بلا عنوان!

 شبیہ زہرا جعفری                                                        


میرا بھائی کام پہ جا رہا تھا بائیک تیزی سے چلاتا گویا ہوا میں اڑ رہا تھا۔۔۔پاس کی گاڑیوں کو سائیڈ دیتا اور +گے کی گاڑیوں کو پاس کرتا وہ +گے بڑھا جا رہا تھا ایک ہی دھن اس کے ذہن پہ سوار تھی کہ +فس وقت پہ پہنچ جاؤں۔۔۔باس سے اس نے پچھلے سال بھی وقت پہ پہنچنے پہ چار بونس لئے تھے حاضری الاؤنس اس کے علاوہ تھا۔ اس بار بھی وہ اپنا رکارڈ برقرارب برکھنا چشاہتا تھا اس لئے ہمیشہ وقت سے ایک دو منٹ پہلے آفس میں موجود ہوتا تھا۔ اب تو سگنلز بھی کم ہوگئے تھے اور صبح کو رش بھی کم ہوتا تھا۔ اس لئے بھی وہ اپنا رکارڑ مین ٹین کر پارہا تھا



۔بائیک تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک سامنے گاڑیاں رکنے لگیں۔۔رش لگ گیا اور ٹریفک یکایک جام! بھائی نے ادھر ادھر سے نکلنے کی راہ ڈھونڈنا چاہی اسی دم ایک تیز آواز اس کے کان میں آئی اسے ہاسپٹل کون لے جائے گا ؟ سب کو گویا سانپ سونگ گیا کوئی آواز نہ آئی تو میرا بھائی جس نے ابھی تک آدمی کو دیکھا بھی نہیں تھا چلا کر کہا میں لے جاؤن گا اور بائیک کھڑی کر کے آگے بڑھا اور بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھا تو دیکھا ایک آدمی خون میں لت پت پڑا تھا بائیک چور ہوئی ایک طرف پڑی تھی بھائی نےئ ایک آدمی کی مدد سے  اسے اٹھایا بئیک پہ بٹھایا اور عباسی ہسپتال لے گیا۔

یہ سب اس قدر جلدی میں ہوا کہ میرے بھائی اطلاع دے سکا نہ ہی اپنے آفس نہ ہی اس آدمی کے گھر! بس وہ دوائیاں لانے کبھی ڈاکٹر کے پیچھے بھاگنے کبی ایکسرے کرانے کے سوا کچھ نہ کر سکا۔ اکٹرز نے شام تین بجے کہا کہ آپکا بھائی اب خطرے سے باہر ہے تو اس کی آنکھ نم ہوگئی اور اسے اپنا موبائل یاد آیا اور اس نے آفس فون کیا پھر اس آدمی کے موبائل سے اس کے گھر فون کیا اس کے والدین دس منٹ ہسپتال آگئے ۔اس کا نام حسن تھا والدین نے کہا کہ چار بجے انکا بڑا بیٹا آجائے گا تو وہ اپنے گھر چلا جائے۔ میرے بھائی نے گھر فون کر کے بتایا کہ آج وہ گھر جلدی آجائے گا۔ہم سب خوش ہوگئے۔
گھر آنے پہ اصل صورتحال کا علم ہوا۔ بھائی بہت اداس تھا۔ اس آدمی کے لئے بھی اور آفس سے بغیر بتائے چھٹی کے لئے اس کی سال کی یہ پہلی چھٹی تھی مگر بغیر اطلاع کے چھٹی اس کے باس کے نزدیک بہت بڑا جرم تھا۔
سال پورا ہونے پہ بھائی کو آفس سے اس بار ایک بونس بھی نہیں ملا!
مگر وہ خوش تھا ہر سال سے زیادہ!
کیونکہ وہ کہتا تھا کہ آفس سے کوئی بینیفٹ ملے نہ ملے اس خدا کے ہاں تو میں نے اپنی عرضی لگا دی نا!
بس یہی کافی ہے!
اور آج پانچ سال گزر گئے ہیں اس واقع کو میرا بھائی آج اسی کمپنی کا میجنگ ڈائریکٹر ہے!
جی ہاں محنت اور لگن!
خدا پہ بھروسہ اور خدا کے بندوں کی مدد!
بس یہی کچھ ہے اس کا سرمایہ؍
ایک بات بتادوں کہ وہ آدمی جس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہ اس کے باس کا بھائی نکلا تھا!
پھر بھی باس اپنے اصولوں کا پکا تھا!
نہ اس نے ڈھیل دکھائی نہ میرے بھائی نے اپنی نیکی کا صلہ اس سے مانگا!
لیکن یہ سب اچھا ہی ہوا!
ورنہ میرا بھائی لکیر کا فقیر بن جاتا!
شبیہ زہرا جعفری                           شبیہ زہرا جعفری

Thursday, August 21, 2014

میر ا دوپٹہ Tarekhi Kahanian


میر ا دوپٹہ

شبیہ زہرا جعفری

میں نے ایک دوپٹہ چار ہزار کا خریدا تھا۔ اس پہ کام بہت نفاست سے کیا گیا تھا

 ستارے، کلابتو،لیسز،جڑاؤ نگ اور نہ جانے کیا کیا
لینے کا مقصد یہ تھا کہ سادے کپڑوں کے ساتھ پہن کر سادہ کپڑے سادہ نہیں لگیں گے!




اور کسی بھی تقریب میں چل جائے گا!
اور کئی مہینے نئے کپڑوں اور مہنگے کپڑوں سے جان چھوٹ جائے گی!
اور پھر جب وہ دوپٹہ پہن کر میں پہلی بار خالہ کے گھر کزن کی منگنی میں گئی تو کزن کی منگنی کا سوٹ پھیکا لگنے لگا! باقی کزنز کا بھی منہ لٹک گیا!
بس میں ہی میں دکھ رہی تھی!
اور میرا دوپٹہ!
اور پھر
میری ایک کزن نے کہا کہ یہ دوپٹہ پہننے کو دو گی!
میں نے کہا کیوں نہیں!
اور یوں میرا دوپٹہ مجھ سمیت میرے  گھر ،خاندان اور محلے اور کالج فرینڈز کے بھی کام آنے لگا سب ہی نئے کپڑوں اور نئے سوٹس سے بچ گئے فضول خرچی لگنے لگی نئے کپڑوں کی تیاری!
ایک دن میری امی کا ہاتھ سیڑھی سے گرنے سے ٹوٹ گیا ہسپتال جانے پہ ڈاکٹرز نے پلاستر کرنے کو کہا
گھر میں پیسے نہیں تھے کہ پلاستر کیا جاتا
نہ کوئی قیمتی چیز تھی!
بہت سوچ بچار کے بعد میں اپنا دودپٹہ اپنی کزن کے پاس لے گئی
اس نے پورے پانچ ہزار دے کے دوپٹہ لے لیا!
میری امی کا پلاستر ہوگیا!
پھر چھ مہینے بعد ہاتھ بھی ٹھیک ہوگیا!
اور میں جاب پہ لگ گئی اور چھوٹی بہن اسکول ٹیچنگ کرنے لگی!
ایک دن اس کے اسکو؛ل میں پارٹی تھی اس نے مجھ سے وہی دوپٹہ مانگا تو میں ٹال گئی۔
یری بہن کی منگنی ہونے والی تھی اس نے کہا باجی دوپٹہ دے دو میں منگنی میں 


وہی پہنوں گی!
میں نے کہا ڈھونڈتی ہوں بہت ڈھونڈا پر وہ نہیں ملا!
میں ا س کے سامنے شرمندہ ہوگئی!
پر کیا کرتی وہ کہاں سے لاتی!
پھر میری بارات  تھی!
میری بہن نے مجھ سے  وہی دوپٹہ مانگا میں نے کہا کہ کہیں رکھ کے بھول گئی وہ پہلے تو مجھے دیکھتی رہی پھر کہنے لگی باجی آپ نہیں دینا چاہتیں تو نہ دیں مگر بھولنے کا  ناٹک نہ کریں کیون کہ میں جانتی ہوں آپ کچھ بھولتی نہیں ہیں!آپ جہیز میں لے جانا چاہتی ہیں نا! نیں چاہتیں کہ میں پہنوں! مت دیں میں نیا سوٹ خرید لوں گی یا اپنی منگنی کا سوٹ پہن لوں گی!
اور بارات آنے ہی والی تھی کہ میری کزن آگئی اس کے جسم پہ وہی دوپٹہ سجا ہوا تھا
میں گھبرا گئی اسے دیکھ کر!
مگر وہ میرے پاس نہ آئی تھوڑی دیر کے بعد بارات آگئی اور گہما گہمی میں مجھے میری وہ کزن دکھائی نہ دی
نکاح کے وقت میرے قریب میری وہیی کزن آگئی اور میں مزید گھبرا گئی
میری بہن دکھائی نہیں دے رہی تھی!
رخصتی کے وقت وہ میرے پاس آگئی اور مجھ سے لپٹ کر بولی!
باجی! آپ نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ آپ نے دوپٹہ فرح باجی کو بیچ کر امی کا پلاستر کروایا تھا!
میری آنکھیں بھیگ گئیں
اور وہ مجھ سے لپٹ گئی
باجی آپ بہت عظیم ہیں!
میں آپ کو غلط سمجھتی رہی میں سمجھتی تھی کہ آپ نے ابو کا پیسہ چھپا رکھا تھا مجھے فرح باجی نے بتایا کہ آپ چھپ چھپ کے کہانیاں لکھتی تھیں اور ان پیسوں سے گھر چلتا تھا
اور پھر امی کا پلاستر آپ نے  اپنا دوپٹہ بیچ کر کیا
مجھے معاف کر دیں
میری بہن رو رہی تھی
اور میں بھی 
میں اس لئے کہ فرح نے میرا راز کھول دیا تھا
اور وہ اس لئے رو رہی تھی کہ آج اس کا دل صاف ہو گیا تھا۔
میرا دوپٹہ واقعی گریٹ تھا۔
شبیہ زہرا جعفریبرائے مہربانی کمنٹس دیجئے