Friday, August 22, 2014

بلا عنوان! Sachi Kahanian


بلا عنوان!

 شبیہ زہرا جعفری                                                        


میرا بھائی کام پہ جا رہا تھا بائیک تیزی سے چلاتا گویا ہوا میں اڑ رہا تھا۔۔۔پاس کی گاڑیوں کو سائیڈ دیتا اور +گے کی گاڑیوں کو پاس کرتا وہ +گے بڑھا جا رہا تھا ایک ہی دھن اس کے ذہن پہ سوار تھی کہ +فس وقت پہ پہنچ جاؤں۔۔۔باس سے اس نے پچھلے سال بھی وقت پہ پہنچنے پہ چار بونس لئے تھے حاضری الاؤنس اس کے علاوہ تھا۔ اس بار بھی وہ اپنا رکارڈ برقرارب برکھنا چشاہتا تھا اس لئے ہمیشہ وقت سے ایک دو منٹ پہلے آفس میں موجود ہوتا تھا۔ اب تو سگنلز بھی کم ہوگئے تھے اور صبح کو رش بھی کم ہوتا تھا۔ اس لئے بھی وہ اپنا رکارڑ مین ٹین کر پارہا تھا



۔بائیک تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک سامنے گاڑیاں رکنے لگیں۔۔رش لگ گیا اور ٹریفک یکایک جام! بھائی نے ادھر ادھر سے نکلنے کی راہ ڈھونڈنا چاہی اسی دم ایک تیز آواز اس کے کان میں آئی اسے ہاسپٹل کون لے جائے گا ؟ سب کو گویا سانپ سونگ گیا کوئی آواز نہ آئی تو میرا بھائی جس نے ابھی تک آدمی کو دیکھا بھی نہیں تھا چلا کر کہا میں لے جاؤن گا اور بائیک کھڑی کر کے آگے بڑھا اور بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھا تو دیکھا ایک آدمی خون میں لت پت پڑا تھا بائیک چور ہوئی ایک طرف پڑی تھی بھائی نےئ ایک آدمی کی مدد سے  اسے اٹھایا بئیک پہ بٹھایا اور عباسی ہسپتال لے گیا۔

یہ سب اس قدر جلدی میں ہوا کہ میرے بھائی اطلاع دے سکا نہ ہی اپنے آفس نہ ہی اس آدمی کے گھر! بس وہ دوائیاں لانے کبھی ڈاکٹر کے پیچھے بھاگنے کبی ایکسرے کرانے کے سوا کچھ نہ کر سکا۔ اکٹرز نے شام تین بجے کہا کہ آپکا بھائی اب خطرے سے باہر ہے تو اس کی آنکھ نم ہوگئی اور اسے اپنا موبائل یاد آیا اور اس نے آفس فون کیا پھر اس آدمی کے موبائل سے اس کے گھر فون کیا اس کے والدین دس منٹ ہسپتال آگئے ۔اس کا نام حسن تھا والدین نے کہا کہ چار بجے انکا بڑا بیٹا آجائے گا تو وہ اپنے گھر چلا جائے۔ میرے بھائی نے گھر فون کر کے بتایا کہ آج وہ گھر جلدی آجائے گا۔ہم سب خوش ہوگئے۔
گھر آنے پہ اصل صورتحال کا علم ہوا۔ بھائی بہت اداس تھا۔ اس آدمی کے لئے بھی اور آفس سے بغیر بتائے چھٹی کے لئے اس کی سال کی یہ پہلی چھٹی تھی مگر بغیر اطلاع کے چھٹی اس کے باس کے نزدیک بہت بڑا جرم تھا۔
سال پورا ہونے پہ بھائی کو آفس سے اس بار ایک بونس بھی نہیں ملا!
مگر وہ خوش تھا ہر سال سے زیادہ!
کیونکہ وہ کہتا تھا کہ آفس سے کوئی بینیفٹ ملے نہ ملے اس خدا کے ہاں تو میں نے اپنی عرضی لگا دی نا!
بس یہی کافی ہے!
اور آج پانچ سال گزر گئے ہیں اس واقع کو میرا بھائی آج اسی کمپنی کا میجنگ ڈائریکٹر ہے!
جی ہاں محنت اور لگن!
خدا پہ بھروسہ اور خدا کے بندوں کی مدد!
بس یہی کچھ ہے اس کا سرمایہ؍
ایک بات بتادوں کہ وہ آدمی جس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہ اس کے باس کا بھائی نکلا تھا!
پھر بھی باس اپنے اصولوں کا پکا تھا!
نہ اس نے ڈھیل دکھائی نہ میرے بھائی نے اپنی نیکی کا صلہ اس سے مانگا!
لیکن یہ سب اچھا ہی ہوا!
ورنہ میرا بھائی لکیر کا فقیر بن جاتا!
شبیہ زہرا جعفری                           شبیہ زہرا جعفری

No comments:

Post a Comment