تحریر: شبیہ زہرا جعفری
کاش میں بھی ہاتھ ملاتا
سر کیا میں اس کام کے لئے آجاؤں ؟ شبیب نے سوالیہ نگاہوں سے سر میثم کی جانب دیکھا، اور چند قدم آگے بڑھ
گیا۔
تم چاروں میں سے
کوئی بھی آجائے لیکن یاد رکھنا کہ یہ مشین تمہیں
لے بھی جائے گی اور واپس بھی لے آئے گی نہ تمہیں کسی بٹن کو ساتھ لے جانا پڑے گا نہ ہی کسی مشین
کو تم ماضی میں کسی بھی وقت میں پہنچ سکتے ہو ۔اپنی امی یا ابو کا بچپن یا خود اپنا
بچپن دیکھ سکتے ہو اور چاہو تو اپنے دادا یا دادی نانا یا نانی کا بھی۔ سر میثم سے
وضاحت کی۔
تو کیا اس سے آگے نہیں جا سکتی؟ میرا مطلب ہے کہ اس ٹائم سے آگے؟حیدر
نے مشین کے ڈائل پہ انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔
ہاں
لے جائے گی مگر وہاں سے جلد پلٹنا پڑے
گا۔ دور ٹائم پیرڈ میں جاؤ گے تو وہاں کچھ چیزوں
کا فرق ہوجائے گا جو قریب کے ٹائم میں
نہیں ہے۔ سر میثم نے مشین کی سیٹنگ
کرتے ہوئے کہا۔
مثلا! کیا سر؟ عباس نے حیرت سے پوچھا۔اور
کیا اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے؟اس نے اپنی نوت بک کو جیب جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔
ہاں
میں اس سلسلے میں کام کر رہا ہوں امید ہے جلد کامیابی مل جائے لیکن ابھی اس سلسلے
میں کچھ نہیں کیا جاسکتا۔
کچھ اور بھی اس میں کمی ہے کیا ؟ دانیال نےمشین کی سطح پہ انگلی پھیرتے
ہوئے پوچھا۔
ہاں
ایک اور وہ یہ کہ ماضی میں جاکر ہم
کچھ بدل نہیں سکتے ماضی دیکھ سکتے ہیں اس اور بس۔سر میثم نے تمام ڈائلز کا جائزہ لیتے
ہوئے انہیں ایک طرف ہٹنے کو کہا۔
سر کیا وہ ہمیں دیکھ پائیں
گے؟ شبیب نے دلچسپی سے پوچھا
ہان وہ ہمیں اور ہم انکو دیکھ سکتے ہیں وہ ہماری اور ہم انکی باتیں بھی سن سکتے ہیں مگر پھر وہی بات ہے کہ ہم بدل کچھنہیں سکتے جو ہوچکا ہے اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔سر نے مشین پہ تمام ائل سیٹ کر دیئے تھے آجاؤ
جو آنا چاہے۔۔۔۔سر نےئ ان کی طرف دیکھکر کہا۔۔۔کون آئے گا سر میں آؤں گا۔۔۔شبیب
نے دیکھاباقی تینوں آگے بڑھنے میں ہچکچا رہے تھے۔ٹھیک ہے آ ؤاوراس مشین پہ لیٹ جاؤ اور جس زمانے میں جانا
ہے وہاں کا تصور اسٹرونگلی کرنا جب وہاں
پہنچ جاؤ تو خود کو وہاں کا حصہ سمجھنا
واپسی کا ٹائم یہاں خود ہی سیٹ ہوجائے گا۔۔۔پھر
تمہیں واپس آنا پڑے گا ہر حال میں اور وہان تم اگر خطرے میں ہوگے تو ہ تمہیں فوراً واپس بلا لیں گے کیونکہ تمہیں ہم ایک ایک لمحہ اپنی اسکرین پہ دیکھ رہے ہوں گے۔۔۔۔سر نے ڈائل اس کے سینے اور سر پہ سیٹ کرتے
ہوئے کہا۔۔۔۔تیار ہو۔۔۔’’جی سر‘‘ اوکے میں
الٹی گنتی گنوں گا تم اپنے ذہن مئیں خاکہ بنانا شروع کردو تمہیں جہاں جانا
ہے وہاں کا جتنا مضبوطی سے خیال جماؤ گے اتنا
اس وقت کے قریب پہنچ جاؤ گے۔۔۔ سر نے گنتی شروع کی اور شبیب نے آنکھیں بند کرلیں
اور تصور کو غدیر کے قریب لے گیا وہ اپنا فوکس غدیر کئے ہوئے تھا۔ لیکن کانوں میں سر
کی آواز بھی آرہی تھی۔۔۔اسکا دل چاہا سر چپ ہوجائیں وہ غدیر میں
اتر جائے۔۔۔ ریڈی ہو۔۔۔۔۔دس۔۔۔۔نو۔۔۔۔آٹھ ۔۔۔۔سات۔۔۔چھ۔۔۔۔پانچ۔۔۔چار۔۔۔تین
۔۔۔دو۔۔۔ایک۔۔۔صفر۔۔۔۔۔اسٹارٹ۔۔۔۔۔۔
اسے سفید کپڑوں میں حاجی
دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔اور اونٹ کی گھنٹیان بھی سنائی دے رہی تھیں ۔وہ آگے بڑھناچاہتاتھا
مگراسکا جسم رسیوں میں جکڑا ہوا لگ رہا تھا وہ رسیا تڑوانے کے لئے ایک دماچھلا اور پھر زمین پہ گرپڑا اور پھر
اسے کچھ دکھائی نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائے کون ہو تم ۔۔۔یہاں کیوں پڑے
ہو اور یہ تم نے کیا ]پہن رکھا ہے؟؟اس کی آنکھ ایک جھٹکے سے کھل گئی اس کے سامنے ایک
لڑکا کھڑا ہوا تھا اس نے لمبی قمیض پہن رکھی تھی اس کے ہاتھ میں تلوار تھی جو اس نے اس کے اوپر تان رکھی تھی اس
نے اٹھنے کی کوشش کی ائے لیٹے رہو کیا نام ہے تمہارا؟اس نے اسے دوبارہ زمین پہ گرا
دیا تھا۔
میرا نام شبیب ہے اور میں یہاں گر
گیا تھا میں کراچی کا ہوں پاکستان۔۔۔۔کراچی اس نے سمجھانا چاہا وہ حیرت سے
اسے دیکھنے لگا تم عجیب ہو کونسی زبان بول رہے ہو کراجی؟ یہ کیا ہے؟شبیب ایک دم ہنس
پڑا اس کے کراجی کہنا اسے اچھا لگا تھا۔وہ عربی لڑکا بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اوراس
کے کپڑوں کا جائزہ لینے لگا۔
مائ۔۔۔شبیب نے اشارہ سے کہا۔
وہ لڑکا ایک دم جھٹکے سے کھڑا ہوا ایک طرف
کو بھاگ گیا اور ایک مشک لئے ہوئے آیا اور شبیب کو پانی پلانے لگا۔
دوست تم نے اپنا نام نہیں بتایا شبیب نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
میرا نام عابس ہے۔اور میں مذحج قبیلے کا ہوں حضورﷺ کے ساتھ حج کا شوق مجھے یہاں لے آیا ہے۔ اچھا اب اٹھو دیکھو بلال کی آواز آرہی
ہے معلوم کیوں وہ اس وقت اذن دے رہے ہیں چلو چل کر دیکھیں ۔
مم۔۔۔۔مم۔۔میں ۔۔ب۔۔بب۔۔۔بلا۔۔۔بلال رضی اللہ تعالیٰ۔۔۔کے پاس؟وہ
حیرت زدہ رہ گیا۔
تم نے رضی اللہ کیوں کہا ہم سب تو ایسا نہیں کہتے عابس نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیوں
کہ وہ حضوراکرم ﷺ کے صحابی اور ان کے مئوذن ہیں نا اس لئے۔اس نے وضاحت کی تو مسکرا دیا ’ہاں بھائی ان کی تو بات ہی الگ ہے ان کی آوازِ اذان
انسان کو دنیا سے ہتا کر خدا کا قرب عطا کرتی ہے اتنا خدا کی محبت میں ڈاب کر اذان دیتے ہیں کہ سننے والا مبہوت ہوجاتا ہے۔
ہاں
جلدی چلو ایسا نہ کہ ان کی اذان ختم ہوجائے۔شبیب نے عابس کا ہاتھ تھاما اور
دونوں نے ایک طرف کو دوڑ لگا دی جس طرف کو
باقی سب حاجی جارہے تھے۔مگر جب وہ پہنچے اذان ختم ہوچکی تھی۔اور لوگوں کا ہجوم لگا ہواتھا سب پوچھ رہے تھے کہ کس نماز
کا وقت ہوا ہے؟ کوئی پوچھ رہا تھا کہ کیا کوئی نماز فرج ہوئی ہے؟ کچھ لوگ کہہہ رہے
تھے کہ کوئی خاص بات لگتی ہے جو اذان ہوئی ہے۔ عابس راستہ بناتا ہوا اس جگہ شبیب کو
لئے پہنچ گیا جہاں بلال کھڑے تھے۔شبیب بھاگ
کر بلال کی جانب بڑھا تاکہ ان کے قدموں کو
بوسہ دے لیکن کسی نے پیچھے سے دھکا دیا اور وہ دور جاگرا۔اٹھویار یہ تم نے کیا حرکت
کی ہے؟ عابس نے اسے کھڑا کیا۔میں بلال کے قدوں کا بوسہ لینا چاہتا تھا۔اوہو۔۔۔بلال کے قدموں کا بوسہ کیوں
وہ ناراض ہوں گے تم ان کے ہاتھ چوم
لو ان کی عبا کو پیار کرلو۔عابس نے اسے ایک طرف کرتے ہوئے کہاتو شبیب نے ٹھیک ہے کہہ
کر بلال کی طرف پھر دوڑلگادی بلال ایک اونچے ٹیلے پہ کھڑے تھے لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ نبئی محترم ﷺ فرما رہے ہیں کہ سب لوگ اپنی اپنی اونٹوں کی گدیاں
اس طرف لاکر جمع کردیں ۔شبیب نے بلال کا چہرہ دیکھا اتنا نورانی چہرہ اس نے
پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اس کی نظریں ان کے چہرے کے رعب و جلال اور انکی ہیبت کی وجہ
سے ان کے چہرے پہ ٹھہر ہی نہیں رہیں تھیں اس
نے ہمت کر کے بلال کے پاؤں پہ بوسہ دینا چاہا
تو بلال نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اوپر کیا اس کو اپنے قریب کر لیا اس نے بلال کا ہاتھ
تھام کر ہونٹوں سے لگالیا۔ نرم و ملائم ہاتھ
اس کے چہرے سے ٹکرائے تو اس کا دل نور وروشنی سے بھر گیا اور بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسووں
کا ریلا بہہ نکلا اور وہ ہچکیاں لے
کر رونے لگا عابس نے اسکا کاندھا ہلایا ’’ ارے یار کیا ہوا؟ بلال کا ہاتھ تو چھوڑو۔۔عابس
نے اسے ہلا کر کہا اس نے روتی آنکھوں سے دیکھا
کہ بلال کے چہرے پہ شفیق مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ارے بھئی بلال کو بہت کام کرنے ہیں ان کو جانے دو۔۔۔عابس نے پھر ہلایا۔۔۔تو اس نے ایک
بار پھر بلال کا ہاتھ چوما اور ہلکے سے ہاتھ چھوڑ دیا۔بلال نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ
رکھا اور آفرین کہہ کر آگے بڑھ گیا۔اور وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔اسکا تو دل چاہ
رہا تھا کہ بس بلال کو دیکھتا ہی رہے۔
ارے بھائی جب تم بلال میں اتنا کھو گئے تو تم تو محمد ﷺ اور علؑی کو دیکھ کر تو لگتا ہے بیہوش ہی ہوجاؤ
گے۔عابس ہنستے ہنستے بے حال ہورہا تھا۔
آ۔۔۔آں ۔۔۔ہاں ۔۔۔محمدﷺوہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔کک۔۔۔کیا
۔۔۔میں یہ سعادت پا سکتا ہوں ؟ ہاں کیوں نہیں وہ دیکھو سامنے کون ہے۔۔۔عابس ایک جانب اشارہ کیا
۔شبیب نے جب اس طر ف دیکھا تو اسے لگا کہ آسمانوں کا سورج زمین پہ اتر آیا ہے وہ ایک دم بے خود سا
آگے بڑھتا جارہاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائے پیچھے ہٹ۔۔۔کسی نے اسے دھکا دیا تو
وہ زمین پہ گر گیا لیکن وہ فوراً ہی اٹھ گیا اور پھر اسی جاب چل پڑا جہاں دو سورج ساتھ ساتھ جلوہ گر تھے۔ائے لڑکے تیرے کپڑوں سے خون نکل رہا ہےتجھے چوٹ لگی ہوئی ہے۔۔۔پیچھے
ہٹ۔۔۔میرے کپڑے بھی نجس ہوجائیں گے کسی نے
اسے دوبارہ دھکا دیا تو وہ پھر زمین پہ گر گیا لیکن اس کو اس وقت کسی کا ہوش نہیں تھا وہ جسم و جسمانیت سے بے پرواہ تھا اس کی دل
کی تمنا اور روح کا قرار اس کے سامنے تھا بس وہ بے خود سا آگے بڑھتا چلا جارہاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایہاالناس۔۔۔۔۔آواز کیا تھی گویا روح میں اترنے والا قرار تھا آسمانی ندا تھی یا بارش کا
پہلا قطرہ یا بہار کا پہلا کھلتا ہوا پھول۔۔یا پھر بلندی سے گرنے والے جھرنے کی طرح
پاک و پاکیزہ آواز تھی ،وہ جہاں تھا وہیں جم کر رہ گیا۔ایہالناس۔۔۔۔ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو اپنی یکتائی میں بلند اور اپنی انفرادی شان میں کے باوجود قریب ہے۔۔۔۔۔۔وہ ایک ایک لفظ گویا اس کی روح پہ نقش ہو رہا تھا۔وہ ہمہ تن ایک ایک
لفظ سن رہا تھا۔ایہاالناس تقویٰ اختیار کرو، قیامت سے ڈرو کہ اس کا زلزلہ بڑی عظیم
شے ہے، موت ، حساب ،میزان ، اللہ کی بارگاہ کا محاسبہ ، ثواب اور عذاب سب کو یاد کرو
کہ وہاں نیکیوں پر ثواب ملتا ہے، اور برائی کرنے والے کا جنت میں کوئی حصہ نہیں
ہے۔وہ کہہ رہے تھے اور اس کے آنکھوں
سے آنسوؤں کا سمندر جاری ہو رہا تھا۔کیا
میں نے تم لوگوں کے نفسون پر اختیار رکھتا ہوں ؟ جی ہاں ۔۔۔جی ہاں ۔۔۔جی ہاں
کی صدائیں اٹھنے لگیں ۔
تو پھر یاد رکھو۔۔۔۔وہ حیرت سے اوپر دیکھنے
لگا کہ کیا یاد رکھنے کا حکم دیں گے جسے وہ
دل و جان سے قبول کرے گا۔
یاد رکھو جس جس کا میں مولا ہوں
اس کے آج سے یہ علی ؑ
بھی
مولا ہیں ۔۔۔یہ کہہ کر حضرت محمدﷺ مسکرائے تو لگا کہ چاروں جانب پھول کھل اٹھے ہوں اور وہ جھکے جس طرح ہلال عید جھکا ہوتا ہے اور جب
سیدھے ہوئے تو انہوں نے علؑی کا ہاتھ تھام رکھا تھا ان دونوں کی طرف نگاہ اٹھاکر دیکھنا مشکل ہورہا تھا۔اس نے
دھڑکتے دل کے ساتھ نگاہ اٹھائی تو سورج نے ایسا لگا کہ روشنی اور نور کا جھماکا ہورہا
ہواس کی نگاہیں نور کی شدت کی وجہ سے جھک گئیں وہی نورانی آواز آئی ’’ اے اللہ جو علی سے دوستی
کرے تو اس سے دوستی کر اور جو علی سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی کر جو علی کا ساتھ دے
تو اس کا ساتھ دے جو علی کو چھوڑ دے تو اسے چھوڑ دے۔آپ لوگ لائن لگا کر علی کو مولا
اور ولی بننے کے اعلان کی مبارک باد دیجیئے ۔۔اورعلی کو امیرالموئمنین کہہ کر سلام
کیجئے۔۔۔اور کہیئے کہ اور کہیئے کہ اے اللہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔۔۔۔اور کہو کہ شکر
ہے اے پروردگار۔۔۔آواز دوستانہ تھی۔سب لوگ بھاگنے لگے سورج کی جانب لیکن اس کے قدم
گویا تھم گئے ہوں بس اسکی آنکھیں اس وقت اپنی پیاس کی سیرابی کر رہپی تھیں ۔ارے تم
یہاں ہو ادھر آؤ لائن لگاؤ میرے ساتھ امیرالموئمنین
کو مبارک باد دینے کے لئے۔۔۔عابس پتہ نہیں
کہاں سے اسے ڈھونڈتا ہوا آگیا تھا۔۔اس
پہ بے خودی کی کیفیت تھی۔ چلو لائن لگائیں ۔۔۔۔عابس نے اسے ایک طرف کو کھینچا ۔میں رسولِ خداﷺ سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔ شبیب نے اس جانب
نگاہ جماتے ہوئے کہاجہاں رسولِ خدا ﷺ کھڑے ہوئے تھے۔نہیں میرے بھائی آج ان سے ملاقات مشکل ہے آج ابوذر،
سلمان محمدیﷺ،میثمِ تمار ،مقداد ،بلال،اور دوسرے بزرگ ان کے
پاس کسی کو جانے نہیں دیگے۔ پہلے امیرالمومنین
کو مبارکباد دو پھر آکر زیارت کرلینا وہ بہت مہربان، رحم دل اور مہمان نوازاور دوستوں کے دوست ہیں ۔چلواب لائن میں عابس نے اسے لائن میں لگا دیا وہ جس جگہ لائن میں کھڑا ہوا تھا وہاں سے وہ ایک طرف تو رسولِ خداﷺ کی زیارت کر رہا تھا اور دوسری جانب اسے
خیمے میں سے امیرالموئمنیؑن کا چہرہ اقدس کا نور جھلکتا صاف دکھائی
دے رہا تھا۔
لائن آگے بڑھ رہی تھی اور اس کا دل تیز
تیز دھڑک رہا تھا جوں جوں اسکا نمبر آگے آرہا تھا سورج کا ہالا بھی بڑھتا
جارہا تھا۔ اچانک اسے ایک جھٹکا لگا اور وہ توریکی میں ڈوبتاچلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آگیا آگیا۔۔۔۔۔۔ایک آواز کانوں میں گونجی
اور وہ ایک جھٹکے سے اٹھ گیا۔
مجھے بٹھائیں جلدی کریں ۔۔۔عباس نے پرجوش آواز میں کہو تھا۔
اور نے سر گھمایا سر مشین میں عباس کو لٹا کر بٹن سیٹ کر ہے تھے ڈائل گھما رہے
تھے۔پھر الٹی گنتی شروع ہوئی اور عباس غائب ہوگیا۔
مجھے کہوں واپس بلایا میں تو امیرالموئمنین کے خیمے کے بالکل پاس پہنچ گیاتھا۔
شبیب کی ہچکیاں نہیں رک رہی تھیں ۔
اصل میں مشین میں
کچھ خرابی کا امکان ہو رہا تھا اس لئے میں
نے سوچا کہ سب ہی زیارت کا شرف پالیں ۔ر نے چشمہ اتار کر جیبمیں رکبھ لیا اور
ایک جانب بیٹھ گئے۔مگر وہ روئے جا رہا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے اگر سب نے زیارت کر لی تو
تمہیں دوبارہ موقع بھی دیں گے۔سر نے اسے دلاتے ہوئے کہا ۔
وہ اور
رونے لگا مگر اب اسکا یہ رونا غم یا افسردگی کا نہیں بلکہ خوشی کا تھا۔وہ زیرِ لب شکر کی تسبیح پڑ رہا تھا۔
No comments:
Post a Comment