Thursday, October 10, 2013

Tarekhi Kahanian



کاش میں  بھی ہاتھ ملاتا

تحریر: شبیہ زہرا جعفری


سر کیا میں  اس کام کے لئے آجاؤں ؟  شبیب نے سوالیہ نگاہوں  سے سر میثم کی جانب دیکھا، اور چند قدم آگے بڑھ گیا۔
تم چاروں  میں  سے کوئی بھی آجائے لیکن یاد رکھنا کہ یہ مشین تمہیں  لے بھی جائے گی اور واپس بھی لے آئے گی نہ تمہیں  کسی بٹن کو ساتھ لے جانا پڑے گا نہ ہی کسی مشین کو تم ماضی میں  کسی بھی وقت میں  پہنچ سکتے ہو ۔اپنی امی یا ابو کا بچپن یا خود اپنا بچپن دیکھ سکتے ہو اور چاہو تو اپنے دادا یا دادی نانا یا نانی کا بھی۔ سر میثم سے وضاحت کی۔
تو کیا اس سے آگے نہیں  جا سکتی؟ میرا مطلب ہے کہ اس ٹائم سے آگے؟حیدر نے مشین کے ڈائل پہ انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔
ہاں  لے جائے گی مگر وہاں  سے جلد پلٹنا پڑے گا۔ دور ٹائم پیرڈ میں   جاؤ گے تو وہاں  کچھ چیزوں  کا فرق ہوجائے گا جو قریب کے ٹائم میں  نہیں   ہے۔ سر میثم نے مشین کی سیٹنگ کرتے ہوئے کہا۔
مثلا! کیا سر؟ عباس نے حیرت سے پوچھا۔اور کیا اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے؟اس نے اپنی نوت بک کو جیب جیب میں  رکھتے ہوئے کہا۔
ہاں  میں  اس سلسلے میں  کام کر رہا ہوں  امید ہے جلد کامیابی مل جائے لیکن ابھی اس سلسلے میں  کچھ نہیں  کیا جاسکتا۔
کچھ اور بھی اس میں  کمی ہے کیا ؟ دانیال نےمشین کی سطح پہ انگلی پھیرتے ہوئے پوچھا۔
ہاں  ایک اور وہ یہ کہ ماضی میں  جاکر ہم کچھ بدل نہیں  سکتے ماضی دیکھ سکتے ہیں  اس اور بس۔سر میثم نے تمام ڈائلز کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں  ایک طرف ہٹنے کو کہا۔
سر کیا وہ ہمیں  دیکھ پائیں  گے؟ شبیب نے دلچسپی سے پوچھا
ہان وہ ہمیں  اور ہم انکو دیکھ سکتے ہیں  وہ ہماری اور ہم انکی باتیں  بھی سن سکتے ہیں  مگر پھر وہی بات ہے کہ ہم بدل کچھنہیں  سکتے جو ہوچکا ہے اس میں  تبدیلی ممکن نہیں  ہے۔سر نے مشین پہ تمام ائل سیٹ کر دیئے تھے آجاؤ جو آنا چاہے۔۔۔۔سر نےئ ان کی طرف دیکھکر کہا۔۔۔کون آئے گا سر میں  آؤں  گا۔۔۔شبیب نے دیکھاباقی تینوں  آگے بڑھنے میں  ہچکچا رہے تھے۔ٹھیک ہے آ ؤاوراس مشین  پہ لیٹ جاؤ اور جس زمانے  میں  جانا ہے وہاں  کا تصور اسٹرونگلی کرنا  جب وہاں  پہنچ جاؤ تو خود کو وہاں  کا حصہ سمجھنا واپسی کا ٹائم یہاں  خود ہی سیٹ ہوجائے گا۔۔۔پھر تمہیں  واپس آنا پڑے گا ہر حال میں  اور وہان تم اگر خطرے میں  ہوگے تو ہ تمہیں  فوراً واپس بلا لیں  گے کیونکہ تمہیں  ہم ایک ایک لمحہ اپنی اسکرین پہ دیکھ رہے ہوں  گے۔۔۔۔سر نے ڈائل اس کے سینے اور سر پہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔تیار ہو۔۔۔’’جی سر‘‘ اوکے میں  الٹی گنتی گنوں  گا تم اپنے ذہن مئیں  خاکہ بنانا شروع کردو تمہیں  جہاں  جانا ہے وہاں  کا جتنا مضبوطی سے خیال جماؤ گے اتنا اس وقت کے قریب پہنچ جاؤ گے۔۔۔ سر نے گنتی شروع کی اور شبیب نے آنکھیں  بند کرلیں  اور تصور کو غدیر کے قریب لے گیا وہ اپنا فوکس غدیر کئے ہوئے تھا۔ لیکن کانوں  میں  سر کی آواز بھی آرہی تھی۔۔۔اسکا دل چاہا سر چپ ہوجائیں  وہ غدیر میں  اتر جائے۔۔۔ ریڈی ہو۔۔۔۔۔دس۔۔۔۔نو۔۔۔۔آٹھ ۔۔۔۔سات۔۔۔چھ۔۔۔۔پانچ۔۔۔چار۔۔۔تین ۔۔۔دو۔۔۔ایک۔۔۔صفر۔۔۔۔۔اسٹارٹ۔۔۔۔۔۔
اسے سفید کپڑوں  میں  حاجی دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔اور اونٹ کی گھنٹیان بھی سنائی دے رہی تھیں ۔وہ آگے بڑھناچاہتاتھا مگراسکا جسم رسیوں  میں  جکڑا ہوا لگ رہا تھا وہ رسیا تڑوانے  کے لئے ایک دماچھلا اور پھر زمین پہ گرپڑا اور پھر اسے کچھ دکھائی نہیں  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائے کون ہو تم ۔۔۔یہاں  کیوں  پڑے ہو اور یہ تم نے کیا ]پہن رکھا ہے؟؟اس کی آنکھ ایک جھٹکے سے کھل گئی اس کے سامنے ایک لڑکا کھڑا ہوا تھا اس نے لمبی قمیض پہن رکھی تھی اس کے ہاتھ میں  تلوار تھی جو اس نے اس کے اوپر تان رکھی تھی اس نے اٹھنے کی کوشش کی ائے لیٹے رہو کیا نام ہے تمہارا؟اس نے اسے دوبارہ زمین پہ گرا دیا تھا۔
میرا نام شبیب ہے اور میں  یہاں  گر گیا تھا میں  کراچی کا ہوں  پاکستان۔۔۔۔کراچی اس نے سمجھانا چاہا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا تم عجیب ہو کونسی زبان بول رہے ہو کراجی؟ یہ کیا ہے؟شبیب ایک دم ہنس پڑا اس کے کراجی کہنا اسے اچھا لگا تھا۔وہ عربی لڑکا بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اوراس کے کپڑوں  کا جائزہ لینے لگا۔
مائ۔۔۔شبیب نے اشارہ سے کہا۔
وہ لڑکا ایک دم جھٹکے سے کھڑا ہوا ایک طرف کو بھاگ گیا اور ایک مشک لئے ہوئے آیا اور شبیب کو پانی پلانے لگا۔
دوست تم نے اپنا نام نہیں  بتایا شبیب نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔

میرا نام عابس ہے۔اور میں  مذحج قبیلے کا ہوں  حضور کے ساتھ حج کا شوق مجھے یہاں  لے آیا ہے۔ اچھا اب اٹھو دیکھو بلال کی آواز آرہی ہے معلوم کیوں  وہ اس وقت اذن دے رہے ہیں  چلو چل کر دیکھیں ۔

No comments:

Post a Comment